ابنا: رامین مہمان پرست نے آج ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ اور بعض مغربی ملکوں نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو بہانہ بناکر پابندیوں میں اضافہ کردیا ہے جب کہ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ہےکہ مغرب کی یہ پابندیاں ملت ایران کی خود مختاری کی وجہ سے لگائي گئي ہیں ۔ رامین مہمان پرست نے کہا کہ اگر واقعا یہ پابندیاں ایران کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے ہیں تو مغربی ملکوں کو عالمی رائے عامہ کوجواب دینا ہوگا کیونکہ بتیس برسوں قبل ، تو ایران کسی طرح کی ایٹمی سرگرمیوں کا حامل نہیں تھا تو کیوں مغرب نے اس وقت سے ایران پر پابندیاں لگارکھی ہیں ؟ وزارت خارجہ کےترجمان رامین مہمان پرست نے کہا کہ ایران نے تعمیری مذاکرات کے لئے ہمیشہ آمادگي کا اظہار کیا ہے اور ماسکو مذاکرات میں بھی پانچ جمع ایک گروپ کو شفاف تجویزیں پیش کی تھیں اور اس گروپ نے ایرانی تجویزوں کے جامع ، تعمیری اور شفاف ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ رامین مہمان پرست نے شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اخضر ابراہیمی سے ایرانی حکام کے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ شام کے بحران کا بہترین حل یہ ہے کہ تمام ممالک مل کر شام میں جھڑپوں کےخاتمے، حکومت و مخالفین کے درمیان مذاکرات کی زمین ہموار کرنے نیز اصلاحات پر عمل درآمد کا ماحول تیارکرنے اور عوام کی مشارکت سے ملک کے انتظام کوچلانے اور عوامی اداروں کے قیام کے لئے مدد کریں ۔ انہوں نے ملکوں کے درمیاں مفاہمت کی فضا قائم کرنے کی ضرورت پرتاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسی راستے سے تصادم کا سد باب کیا جاسکتا ہے ۔ رامین مہمان پرست نے یورپی یونین کے ایک وفد کے مجوزہ دورہ تہران کے بارے میں کہا کہ پارلیمنٹ کے اراکین باہمی تعلقات میں فروغ لانے، بعض حقائق کی افہام و تفہیم اور تعلقات کی صحیح صورتحال کا تعین کرنے کی توانائي رکھتے ہیں ۔ .......
/169